جنرل حمید گل ۔ گوریلا دستوں کے کمانڈر

hamid-gul-pakistan-007

تئیس فروری 2014 کا دن تھا ، مقام تھا گل پیڑاں 10 کلومیٹر گجر خان اور پروفیسر احمد رفیق اختر کی سالانہ علمی نشست جاری تھی۔ جنرل حمید گُل بھی اسٹیج پر موجود تھےاور سوالات جوابات چل رہے تھے۔ “کیا انسان سوچتا ہے؟” کے پس منظرمیں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پروفیسر نے اقبال کا یہ قطعہ پڑھا

سرود رفته باز آید که ناید؟

نسیمی از حجاز آید که ناید؟

سرآمد روزگار این فقیری

دگر دانای راز آید که ناید؟

اور بات کو آگے بڑھایا۔ جب پروفیسر بات ختم کرچکے تو جنرل حمید گُل نے مائیک میں کہا کہ پروفیسر اختر، بہت صد احترام، تھوڑی سی جسارت کروں گا آپ سے اختلاف کی۔ پھر انہوں نے اقبال کے اِس قطعے اور اِس سے اگلے قطعے کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اگلا قطعہ یہ ہے:

اگر می آید آں دانائے راز
بدہ او را نوائے دل گدازے
ضمیرِ اُمّتاں رامی کند پاک
کلیمے یا حکیمے نَے نوازے

پروفیسر کہنے لگے کہ میں نے وقت میں کمی کے باعث بات مختصر رکھنے کیلئے ایک قطعہ پڑھا مگر جنرل صاحب نے اُسی پر چھاپہ مارا اور پھر ازراہا مذاق کہنے لگے کہ جنرل صاحب کو گوریلا دستوں کے سربراہی ابھی بھی مل سکتی ہے۔ لیکن استاد کی مذاق میں کہی بات بھی درست ہوتی ہے اور بلاشبہ پروفیسر نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔

جنرل حمید گُل سے میری پہلی ملاقات اُسی دن ہوئی تھی اور وہ کچھ منٹوں کی تھی۔ انہوں نے وضو کرنا تھا اور پھر اُس جگہ جانا تھا کہ جہاں پروفیسر اور باقی مہمان موجود تھے اور بس اسی دوران اُن کے ساتھ رہا۔

دُوسری بار اُنہیں اسلام آباد میں اتحاد اُمہ کانفرنس کے بعد ہوٹل کے گیٹ پر ملا، جہاں وہ اپنی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے اور اِس مختصر سے وقت میں میں نے اُن سے وہی عہدِ عتیق سے اب تک سب سے زیادہ پوچھے جانے والا سوال کیا کہ پاکستان میں شریعت کیسے نافذ ہوسکتی ہے؟ جنرل نے اس سوال کا بہت پریکٹیکل جواب دیا، بغیر کوئی خواب دکھائے اور بنا جذباتی ہوئے۔ جنرل کہنے لگے کہ اس کا حل سادہ سا ہے۔ سپریم کورٹ میں ایک پیٹیشن دائر کی جائے کہ اے عدالتِ عظمیٰ، ہماری اس ضمن میں رہنمائی کی جائے کہ پاکستان میں کِس کی حاکمیت ہے، اللہ کی یا عوام کی؟ یعنی حاکمیتِ اعلیٰ کون ہے؟ جنرل کہتے کہ اِس سے چیزیں واضح ہونا شروع ہوں گی اور شریعت کے نفاذ میں بنیاد بنے گی۔ اُن کی گاڑی آگئی اور بات یہی ختم ہوئی۔

جنرل حمید گُل ایک عہد ساز شخصیت تھے کہ ان کے نظریاتی مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ جو بھی خیالات رکھتے تھے اور اپنے خیالات کو جیسے بھی عمل میں لائے مگر وہ کبھی بھی منافق نہیں رہے، منافقت ان سے چھُو کر بھی نہیں گزری تھی۔ جو کہتے تھے وہ کرتے تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے خیالات کو آگے بڑھانے میں جن لوگوں پر انہوں نے تکیہ کیا وہ کوئی مناسب نہیں تھے بلکہ بعد میں ان لوگوں کا انتخاب غلطی ثابت ہوا۔ وہ نواز شریف کو ایک زمانے میں آگے لانے والوں میں سے تھے، پھر عمران خان کے شروع کے زمانوں میں وہ ساتھ تھے اور پھر بعد میں دفاعِ پاکستان کونسل کی شکل میں ایک ہم خیال لوگوں اور جماعتوں کا اتحاد وجود میں لانے والوں میں سے تھے۔ حالات بدلتے رہے اور نتائج ویسے نہیں آئے جیسے وہ چاہتے تھے مگر کوئی اُن کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں جس مستقبل کی بات وہ کرتے تھے کچھ لوگ اُس کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ خیال صحیح طور عملی جامہ نہیں پہن سکا مگر دفاعی، معاشرتی، معاشی، سماجی اور تاریخی نقطہ نظر سے اُن کی بات بلکل درست تھی اور ہے۔ آگے چل کر جب علاقائی سیکیورٹی کا مطلع صاف ہوگا اور چیزیں واضح نظر آئیں گی تو غالباََ حالات اُسی طرف جائیں گے کہ جن کا جنرل حمید گُل نے خواب دیکھا تھا۔

ہندوستان سے ہمارے تعلقات اور جنرل حمید گُل کے ان پر اثرات پر وہ ایک سکول کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس بات کی دلیل میں، میں ہندوستانی اخبار “دی ہندو” میں سوہا سنی حیدر کےآرٹٰیکل میں را کے سابقی چیف کی کہی بات ہوبہو نقل کردیتا ہوں۔

“We never quit knew whether Lt. General Hameed Gul has the full backing of government or not. When you speak of rough elements in the ISI, I guess he was the headmaster of roughs”

بلاشبہ وہ گوریلا دستوں کے سربراہ تھے، ہیں اور رہیں گے کیونکہ سوچ کبھی نہیں مرتی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s